ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران نے دنیا میں توانائی کے ذخائر کے حامل ایک بڑے ملک کی حیثیت سے ایک جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو خام تیل کی برآمدات روک دی ہیں۔
ایران کے وزیر تیل رستم قاسمی کی جانب سے یورپی ممالک کو تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکی دیے جانے کے بعد ایران کی وزارت تیل کے ترجمان علی رضا نیکزاد نے یورپ کے خلاف ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے پہلے قدم میں برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو خام تیل کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی تیل کی کل برآمدات کا اٹھارہ فیصد تیل خریدنے والے یورپی ممالک نے گزشتہ ماہ اپنے اجلاس میں ایران کے تیل کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایرانی تیل کے یورپی خریداروں سے کہا تھا کہ وہ جون دو ہزار بارہ تک ایران کے بجائے کسی اور ملک سے تیل خریدنے کا بندوبست کریں۔
یورپی ممالک نے ایران کے تیل کا بائیکاٹ اس مقصد سے کیا کہ ایرانی قوم اور اسلامی جمہوری نظام پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر نظرثانی کرے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یورپ اور امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے طریقوں میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ کبھی تو وہ ایران کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار بیٹھتے ہیں۔
جب سے یورپی ملکوں نے ایران کے تیل کے بائیکاٹ کی بات کی ہے بہت سے تجزیہ نگاروں نے ایران کے توانائی کے وسیع ذخائر اور ایران کے خام تیل کے خریداروں کی بڑی تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کا خطرہ ظاہرکیا ہے کہ اس بائیکاٹ سے نہ صرف ایران کو گھیرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس کا زیادہ نقصان یورپی خریداروں کو ہی ہو گا۔ ایران کا تقریبا اسی فیصد تیل ایشیائی ملکوں کو بیچا جاتا ہے کہ جن کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں ایرانی تیل کی ضرورت ہے اور وہ اس کی جگہ کسی اور کا تیل نہیں خریدیں گے۔
ماہرین کے بقول اٹلی اسپین یونان اور فرانس سمیت وہ ملک جو ایران کا خام تیل خریدتے ہیں، انہیں اپنے تیل صاف کرنے کے کارخانوں کی مشینری کو کسی اور ملک کے تیل سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ایک بڑی رقم اور وقت کی ضرورت ہے جبکہ یورپی ممالک کو گزشتہ مہینوں کے دوران اقتصادی بحران اور بھاری قرضوں کی ادائيگی میں مشکل کا سامنا رہا ہے اور اس وقت ان کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ ایران کا خام تیل یونان کی تقریبا 2۔34 فیصد، اسپین کی 9۔14 فیصد اور اٹلی کی 2۔13 فیصد تیل کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ تینوں ملک یورو زون سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں اس وقت شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔
برطانیہ اور فرانس نے یورپ کی جانب سے ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے فیصلے کو منظور کروانے میں سب سے زیادہ کوششیں کیں لیکن ایرانی تیل کی منڈی میں ان کا کچھ زیادہ حصہ نہیں ہے۔ اس بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران نے ان دونوں ملکوں کو تیل کی فروخت روک دی ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے چھ یورپی ملکوں ہالینڈ، اسپین، اٹلی، فرانس، یونان اور پرتگال کے سفیروں کو طلب کر کے خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ تیل کی خریداری کے طویل مدت معاہدے نہ کیے اور رقم کی ادائیگی کی ضمانت فراہم نہ کی تو ان ملکوں کو تیل کی فراہمی روک دی جائے گی۔
ایران کے فیصلے کے بعد تیل کی عالمی قیمتیں ایک سو بیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئيں جو گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے یورپی ملکوں کو بہت زیادہ اقتصادی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سادہ لوح افراد یہ خیال کر رہے تھے کہ ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر کے اور میڈیا کے شوروغل کے ذریعے وہ عظیم ملک ایران کو کمزور کر دیں گے اور اس کو دباؤ میں لے آئيں گے لیکن ان کا یہ حربہ خود ان کے لیے وبال جان بن گيا ہے اور ایرانی تیل کے یورپی خریداروں کا اقتصاد اس فیصلے سے نقصان اٹھا رہا ہے۔
........
/169